بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ تہران میں ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کہا: ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو ممکن اور امریکہ کے سفارتی دکھاوے کو بے اعتبار سمجھتا ہے؛ یہ تاثر خاص طور پر ایتھنز میں روبیو کی اس تقریر کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے جس میں اس نے ایران کے خلاف امریکی جنگ کو تاریخی-تہذیبی رنگ دے دیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ایران کے رہنماؤں اور سیاسی و فکری شخصیات بے مثال طور پر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی تل ابیب میں ترتیب دی جاتی ہے اور اسرائیل امریکہ کو کسی بھی قسم کے سفارتی حل کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ ٹرمپ کے لئے اسرائیل پہلی ترجیح ہے، اور اسرائیلی مفادات کو امریکی مفادات پر مقدم رکھتا ہے۔
اس اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کہا: ایران اب بھی خود کو امریکہ کے ساتھ حالت جنگ میں دیکھتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی و بحری ناکہ بندی اور فضائی پابندی کو اس فوجی جارحیت کا تسلسل سمجھتا ہے جو 8 فروری سے شروع ہوئی ہے؛ اسی بنیاد پر عوام کے مختلف طبقات میں ناکہ بندی توڑنے کی غرض سے، دفاع کے جائز حق کی بنیاد پر، فیصلہ کن کارروائی کے لئے شدید دباؤ موجود ہے۔
ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کہا: ایران نے اپنی مختلف آپریشنل سطحوں کو ہدایت دے دی ہے کہ وسیع پیمانے پر جنگ اور حکام اور عوام کا قتل عام شروع ہونے کی صورت میں، ایران امریکہ سمیت، جنگ میں شریک فریقوں کے سیاسی اہداف کے ٹارگٹ بینک کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی؛ اور بینک میں شامل اہداف نیز دشمنوں کے بنیادی ڈھانچوں کو جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ